حدیث نمبر: 29792
٢٩٧٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن (أبي وائل عن) (١) عمرو بن شرحبيل قال: أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء، يجيء الرجل آخذًا بيد الرجل، قال: فيقول: يا رب هذا قتلني، فيقول: فيم قتلته؟ فيقول: قتلته لتكون العزة لفلان، فيقال: إنها ليست له، بؤ بعملك، ويجيء الرجل آخذًا بيد الرجل فيقول: يا رب هذا قتلني، فيقول: فيم قتلته؟ فيقول: قتلته لتكون العزة لك، (قال) (٢): فيقول: إن العزة لي.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن شرحبیل نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے قیامت کے دن لوگوں کے درمیان خونوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ آدمی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑ کے لائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس نے مجھے قتل کردیا تھا ! اللہ رب العزت پوچھیں گے : تو نے اس کو کیوں قتل کیا ؟ وہ کہے گا میں نے اس کو اس لیے قتل کیا تھا تا کہ فلاں کو عزت مل جائے پس کہا جائے گا : بیشک عزت تو اس کے لیے نہیں ہے تو اپنے عمل کے بوجھ کو اٹھا کر پھر۔ اور آدمی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑ کر لائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس نے مجھ کو قتل کردیا تھا ! اللہ رب العزت پوچھیں گے : تو نے اس کو کیوں قتل کیا ؟ وہ کہے گا میں نے اس کو اس لیے قتل کیا تھا تا کہ عزت تیرے لیے ہو۔ اللہ فرمائیں گے : بیشک عزت میرے ہی لیے ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) سقط من: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29792
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29792، ترقيم محمد عوامة 28528)