٢٩٧٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه بن الأشج عن (عبيد بن تعلى) (٢) قال: غزونا أرض الروم ومعنا أبو أيوب الأنصاري صاحب رسول اللَّه ﷺ وعلى الناس عبد الرحمن بن خالد بن الوليد في زمان معاوية، فبينا نحن عنده إذ أتاه رجل فقال: أتي الأمير، (آنفًا) (٣) بأعلاج أربعة فأمر بهم (فصبروا) (٤) يرمون بالنبل حتى قتلوا، قال: فقام أبو أيوب فزعًا حتى ⦗٢٨٦⦘ أتى عبد الرحمن فقال: (أصبرتهم؟) (٥) لقد سمعت رسول اللَّه ﷺ ينهى عن صبر البهيمة، وما أحب (أني صبرت) (٦) دجاجة وأن لي كذا وكذا، (قال) (٧): فأعظم ذلك، فدعا عبد الرحمن بغلمان له (أربعة) (٨) فأعتقهم مكان الذي صنع (٩).حضرت عبید بن تعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ روم کے علاقہ میں جہاد کرنے کے لیے گئے اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اور حضرت معاویہ کے زمانے میں لوگوں پر حضرت عبدالرحمن بن خالد بن ولید امیر تھے۔ ہم آپ کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : ابھی امیر کے پاس چار گاؤ خر لائے گئے۔ تو اس نے حکم دیا اور ان کو بغیر چارہ کھلائے باندھ دیا گیا۔ ان کو تیر مارے گئے یہاں تک کہ ان کو مار دیا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو ایوب انصاری گھبرا کر اٹھے یہاں تک کہ آپ حضرت عبدالرحمن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کیا تم نے ان جانوروں کو چارہ کھلائے بغیر ہی باندھے رکھا ؟ البتہ تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کو بھوکا پیاسا قید میں رکھنے سے منع فرمایا۔ اور میں پسند نہیں کرتا کہ میں ایک مرغی کو بھوکا پیاسا قید میں رکھوں اور مجھے اس کے بدلے میں اتنا اور اتنا مال ملے پس یہ تو بہت بڑامعاملہ ہے اس پر حضرت عبدالرحمن نے اپنے چار غلاموں کو بلایا اور اپنے اس فعل کے بدلے ان چاروں کو آزاد کردیا۔