حدیث نمبر: 29717
٢٩٧١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: بينا نحن ليلة (١) في المسجد إذ جاء رجل فقال: لو أن رجلًا وجد مع امرأته رجلًا فقتله قتلتموه؟ أو تكلم (٢) جلدتموه؟ لأذكرن ذلك ⦗٢٧١⦘ للنبي [صلى اللَّه (عليه وسلم) (٣)] (٤) فأتاه فذكر ذلك فسكت عنه، فنزلت آية اللعان، فدعاه النبي ﷺ فقرأها عليه، فجاء الرجل بعد يقذف امرأته، فلاعن رسول اللَّه ﷺ بينهما وقال: "عسى أن تجيء به أسود جعدًا"، فجاءت به أسود جعدًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس درمیان کہ ایک رات ہم مسجد میں تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ؟ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ہمراہ کسی مرد کو پائے اور اسے قتل کردے تو تم اس کو قتل کردو گے یا وہ اس پر تہمت لگائے تو تم اسے کوڑے مارو گے ؟ میں ضرور یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کروں گا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اتنے میں لعان کی آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس پر یہ آیات تلاوت فرمائیں پس اس کے بعد وہ شخص آیا اور اس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا فیصلہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ یہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ لائے پس وہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ ہی لائی۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (المسجد).
(٢) في [هـ]: زيادة (به).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [ك]: ﵇.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٩٥)، وابن حبان (٢٠٦٨)، وأبو داود (٢٢٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29717، ترقيم محمد عوامة 28462)