حدیث نمبر: 29706
٢٩٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (موسى) (١) بن علي عن أبيه قال: جاء أعمى ينشد الناس في زمان عمر يقول: (يا) (٢) أيها الناس (٣) لقيت منكرا … هل يعقل الأعمي الصحيح المبصرا خرا معا كلاهما (تكسرا) (٤)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عمر کے زمانے میں ایک اندھا لوگوں کو یہ شعر سنا رہا تھا : ترجمہ :۔ اے لوگو ! مجھے ایک نامعقول بات کا سامنا ہے۔ کیا اندھا بھی صحیح اور دیکھنے والے کو دیت ادا کرے گا ؟ حالانکہ وہ دونوں اکٹھے گرے تھے ان دونوں کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ؟ حضرت وکیع فرماتے ہیں لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ایک بینا آدمی نابینا کو لے کر جا رہا تھا کہ وہ دونوں کنویں میں گرگئے تھے اور یہ اندھا اس پر گرگیا تھا یا تو اس نے اسے مار دیا تھا یا اسے زخمی کردیا تھا تو اس اندھے کو ضامن بنایا گیا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [ط]: زيادة (لقد).
(٤) في [أ، ب]: (مكسرا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29706
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29706، ترقيم محمد عوامة 28457)