٢٩٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد (عن محمد) (١) بن إسحاق قال: حدثني مكحول قال: لما قدم علينا عمر بيت المقدس أعطى عبادة بن الصامت (رجلًا) (٢) من أهل الذمة دابته يمسكها، فأبى عليه فشجه موضحة، ثم دخل المسجد، فلما خرج عمر صاح النبطي إلى عمر، فقال (عمر) (٣): من صاحب هذا؟ قال عبادة: أنا صاحب هذا، (قال) (٤): ما أردت إلى هذا، قال: (أعطيته) (٥) دابتي يمسكها فأبى، وكنت امرءًا فيّ حدٌ، قال: أما لا، فاقعد للقود، فقال له زيد بن ثابت: ما كانت لتقيد عبدك من أخيك، قال: أما واللَّه لئن تجافيت لك عن القود (لأعنتنك) (٦) في الدية أعطه عقلها مرتين (٧).حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ہمارے پاس بیت المقدس تشریف لائے تو حضرت عبادہ بن صامت نے اپنی سواری ایک ذمی شخص کو دی تا کہ وہ اس کو پکڑ کے رکھے پس اس نے انکار کردیا تو آپ نے اس کو گہرا زخم پہنچا دیا پھر وہ مسجد میں داخل ہوگئے جب حضرت عمر کو چیخ کی آواز سنائی دی تو حضرت عمر کہنے لگے : اس کو تکلیف پہنچانے والا کون ہے ؟ حضرت عبادہ نے کہا : میں اس کا مطلوب ہوں۔ آپ نے پوچھا : تم نے اس سے کیا معاملہ کیا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے اسے اپنی سواری دی کہ یہ اسے پکڑ لے تو اس نے انکار کردیا اور میں ایسا آدمی ہوں کہ مجھ میں حد جاری ہوگئی آپ نے فرمایا : ایسا نہیں ہے پس تم قصاص کے لیے بیٹھ جاؤ ا س پر حضرت زید بن ثابت نے ان سے فرمایا : نہیں اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص نہیں دلوا سکتے۔ آپ نے فرمایا : بہرحال اللہ کی قسم ! اگر میں نے تیرے قصاص کو چھوڑ دیا تو میں ضرور بہ ضرور دیت کے بارے میں تجھے مشقت میں ڈالوں گا تم اسے دو مرتبہ اس کی دیت ادا کرو۔