٢٩٦٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يحيى بن أبي إسحاق قال: سمعت سالم بن عبد اللَّه يقول وقد تيسر قوم من بني ليث ليحلفوا الغد في القسامة فقال: يا لعباد اللَّه لقوم يحلفون على ما لم يروه ولم يحضروه ولم يشهدوه، ولو كان لي -أو إلي- من الأمر شيء لعاقبتهم أو لنكلتهم أو لجعلتهم نكالًا، وما قبلت لهم شهادة.حضرت یحییٰ بن ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جبکہ بنو لیث کی ایک قوم اس بات کے لیے تیار ہوگئی تیہ کہ وہ اگلے دن قسامۃ کے معاملہ میں قسم اٹھائے گی اس پر آپ نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! قوم کے لوگ قسم اٹھائیں گے ایسی بات پر جو انہوں نے نہیں دیکھی اور نہ وہ موجود تھے اور نہ وہ اس پر گواہ تھے۔ اور اگر مجھے اس معاملہ میں اختیار ہوتا تو میں ان کو ضرور سزا دیتا یا یوں فرمایا : کہ میں ان کو عبرتناک سزا دیتا یا میں ان کو قابل عبرت بنا دیتا اور میں ان کی گواہی قبول نہ کرتا۔