حدیث نمبر: 29662
٢٩٦٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (حجاج) (١) بن أبي عثمان قال: (حدثني) (٢) أبو رجاء مولى أبى قلابة (عن أبي قلابة) (٣) أن عمر بن عبد العزيز أبرز سريرة يومًا للناس ثم أذن لهم فدخلوا (٤) فقال: ما (تقولون) (٥) في القسامة؟ (فأضب) (٦) الناس فقالوا: نقول: القسامة القود بها حق، وقد أقادت (بها الخلفاء) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن اپنا تخت لوگوں کے لیے ظاہر کیا پھر آپ نے پوچھا : تم لوگ قسامۃ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ پس لوگوں نے غور و فکر کیا اور کہنے لگے : قسامت کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور تحقیق خلفاء راشدین نے اس نے ذریعہ قصاص لیا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (الحجاج).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (حدنثا).
(٣) سقط عن: [ط].
(٤) في [هـ]: زيادة (عليه).
(٥) في [أ، ب، ط]: (يقولون).
(٦) في [أ، ب، ط]: (فأصب).
(٧) في [ط]: بياض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29662
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29662، ترقيم محمد عوامة 28415)