حدیث نمبر: 29642
٢٩٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد عن بشير بن يسار زعم أن رجلًا من الأنصار (يقال) (١) له: سهل بن أبي حثمة أخبره أن نفرا من (قومه) (٢) انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها، فوجدوا أحدهم قتيلًا، فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا، قالوا: ما قتلنا ولا علمنا، فانطلقوا إلى نبي اللَّه ﷺ فقالوا: يا نبي اللَّه انطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلًا، قال رسول اللَّه ﷺ: "الكبر الكبر"، فقال: "لهم تأتون بالبينة على من قتل"، فقالوا: ما لنا بينة، قال: فيحلفون لكم، قالوا: (٣) لا نرضى بأيمان اليهود، فكره (نبي) (٤) اللَّه ﷺ (أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بشیر بن یسار ایک انصاری شخص جس کا نام سہل بن ابو حثمہ تھا وہ فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کی ایک جماعت خیبر کی طرف گئی، وہ وہاں جا کر منتشر ہوگئے پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مردہ حالت میں پایا ۔ انہوں نے جن کے پاس اسے مردہ حالت میں پایا تھا ان سے وہ کہنے لگے تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کردیا انہوں نے کہا : ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے پھر یہ لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہنے لگے، یا نبی اللہ ! ہم خیبر گئے تھے تو وہاں ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مرا ہوا پایا۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑے کو بلاؤ بڑے کو بلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن سے فرمایا : تم لوگ اس شخص کے خلاف گواہی لاؤ جس نے قتل کیا ہے انہوں نے کہا ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر یہودی تمہارے لیے قسم اٹھائیں گے انہوں نے کہا : ہم یہود کی قسم سے راضی نہیں ہوں گے پس اللہ کے نبی نے اس کے خون کے رائیگاں جانے کو ناپسند سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت سو اونٹ ادا کی صدقہ کے اونٹوں میں سے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (قال).
(٢) في [ط]: (قوم).
(٣) في [ب، ط، م]: زيادة (و).
(٤) في [جـ]: (رسول).
(٥) سقط من: [ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29642
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٩٨)، ومسلم (١٦٦٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29642، ترقيم محمد عوامة 28395)