٢٩٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث بن (الأزمع) (١) قال: وجد قتيل باليمين بين وادعة (وأرحب) (٢)، فكتب عامل عمر بن الخطاب إليه، فكتب إليه عمر: أن قس ما بين الحيين، (فإلى) (٣) أيهما كان أقرب فخذهم به، قال: فقاسوا فوجدوه أقرب إلى وادعة، (قال) (٤): فاخذنا وأغرمنا وأحلفنا، فقلنا: يا أمير المؤمنين أتحلفنا وتغرمنا؟ قال: نعم، قال: فأحلف ⦗٢٥١⦘ منا خمسين رجلًا (باللَّه) (٥) ما فعلت ولا علمت قاتلًا (٦).حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن أزمع نے ارشاد فرمایا : یمن میں قبیلہ وادعہ اور ارحب کے درمیان ایک شخص مردہ حال میں پایا گیا تو حضرت عمر بن خطاب کے گورنر نے آپ کو اس بارے میں خط لکھا : حضرت عمر نے اس کو جواب میں لکھا کہ تم دونوں قبیلہ والوں کے درمیان پیمائش کرو کہ یہ مقتول دونوں میں سے کس قبیلہ کے زیادہ نزدیک ہے ان کو پکڑ لو راوی کہتے ہیں : انہوں نے پیمائش کی اور اس میں مقتول کو قبیلہ وادعہ کے زیادہ قریب پایا۔ راوی کہتے ہیں پس اس گورنر نے ہمارے قبیلہ والوں کو پکڑ لیا اور ہمیں ادائیگی کا ذمہ بنایا اور ہم سے قسم اٹھوائی ہم نے عرض کی اے امیرالمومنین ! کیا آپ ہم سے قسم اٹھوائیں گے اور ہمیں جرمانہ کی ادائیگی کا ذمہ دار بنائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ؟ راوی کہتے ہیں : پس ہم میں سے پچاس آدمیوں نے اللہ کی قسم اٹھائی : نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہی ہم قاتل کو جانتے ہیں۔