حدیث نمبر: 29615
٢٩٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عائذ بن حبيب عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (١) أن امرأة بالشام أتت الضحاك بن قيس فذكرت له أن إنسانًا استفتح عليها بابها وأنها استغاثت فلم يغثها أحد، وكان الشتاء، ففتحت له الباب وأخذت رحى فرمته بها فقتلته، فبعث معها (وإذا) (٢) لص من اللصوص وإذا معه متاع فأبطل دمه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ شام کی ایک عورت حضرت ضحاک بن قیس کے پاس آئی اور ان کے سامنے ذکر کرنے لگی کہ ایک شخص نے اس کا دروازہ کھلوایا اس عورت نے مدد مانگی پس کسی نے اس کی مدد نہیں کی اور وہ سردیوں کے دن تھے پس اس نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا اور چکی اٹھا کر اسے ماردی پس وہ آدمی مرگیا پھر حضرت ضحاک نے اس عورت کے ساتھ کسی کو بھیج دیا تو وہ چوروں میں سے ایک چور نکلا اور اس کے پاس سامان بھی تھا پس آپ نے اس کا خون باطل قرار دیا۔

حواشی
(١) في [ب]: (سيار).
(٢) في [جـ، ك، م]: ([وإذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29615
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29615، ترقيم محمد عوامة 28371)