حدیث نمبر: 29613
٢٩٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن القاسم عن عبيد بن عمير أن رجلًا أضاف إنسانا من هذيل، فذهبت جارية منهم تحتطب، ⦗٢٤٢⦘ فأرادها على نفسها فرمته بفهر فقتلته، فرفع إلى عمر بن الخطاب (قال) (١): فذلك قتيل اللَّه، لا يؤدى أبدًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دعوت کی پس ان میں سے ایک باندی لکڑیاں کاٹنے جا رہی تھی۔ پس اس شخص نے اس باندی سے غلط کا م کا ارادہ کیا تو اس باندی نے پتھر مار کر اسے قتل کردیا پھر یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ اللہ کا مقتول ہے اس کی کبھی دیت ادا نہیں کی جائے گی۔

حواشی
(١) في (ك): (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29613
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29613، ترقيم محمد عوامة 28369)