مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الرجل يجرح، من كان لا يقتص به حتى يبرأ باب: زخمی آدمی کابیان جو اس سے قصاص نہیں لیتا یہاں تک کہ وہ تندرست ہوجائے
حدیث نمبر: 29603
٢٩٦٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن علية) (١) عن أيوب عن عمرو بن دينار (عن جابر) (٢) أن رجلًا طعن رجلًا بقرن في ركبته فأتى النبي ﷺ (٣) يستقيد، قيل له: حتى تبرأ، فأبى وعجل واستقاد، قال: (فعنتت) (٤) رجله وبرئت رجل المستقاد منه، فأتى النبي ﷺ فقال: "ليس لك شيء (٥) أبيت" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں حضرت جابر نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نے کسی آدمی کے گھٹنے میں نیزے کا سینگ ماردیا پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قصاص طلب کرنے کے لیے آگیا اس کو کہا گیا یہاں تک کہ تو تندرست ہوجائے اس نے انکار کیا اور جلدی قصاص طلب کرلیا راوی کہتے ہیں : پس اس کی ٹانگ پھر ٹوٹ گئی اور جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کی ٹانگ صحتمند ہوگئی پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تجھے کچھ نہیں ملا تو نے انکار کردیا۔
حواشی
(١) في [ط، م]: (إسماعيل بن علية).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ب، ط، م]: (فهنت).
(٥) في [هـ]: زيادة (إنك).