مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
من قال: (لقاتل المؤمن) توبة باب: جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ ہے
٢٩٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو مالك الأشجعي عن (سعد بن) (١) عبيدة قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: لمن قتل مؤمنًا توبة؟ قال: لا، (إلا) (٢) النار، فلما ذهب قال له جلساؤه: ما هكذا كنت تفتينًا، كنت تفتينًا أن لمن قتل مؤمنًا توبة مقبولة، فما بال (هذا) (٣) اليوم؟ قال: إني أحسبه (رجلًا مغضبًا) (٤) يريد أن يقتل مؤمنًا، قال: فبعثوا في أثره فوجدوه كذلك (٥).حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : کیا مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے جہنم کے پس جب وہ شخص چلا گیا۔ آپ کے ہم نشینوں نے آپ سے کہا : آپ ہمیں ایسے تو فتویٰ نہیں دیتے تھے۔ آپ تو ہمیں یوں فتویٰ نہیں دیتے تھے کہ یقینا مومن کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے تو آج اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا میرا خیال ہے یہ شخص غصہ میں ہے اور کسی مومن کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے راوی نے کہا : پس وہ لوگ اس آدمی کے پیچھے گئے انہوں نے اسے ایسا ہی پایا۔