مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
من قال: ليس لقاتل المؤمن توبة باب: جو یوں کہے: مومن کو قتل کرنے والے کے لیے کوئی توبہ نہیں
٢٩٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو الأشهب قال: سمعت مزاحم الضبي [يحدث] الحسن عن ابن عباس قال: بينما رجل قد سقى في حوض (له) (١) ينتظر (٢) (ذودًا) (٣) (يرد) (٤) عليه، إذ جاءه رجل راكب ظمآن مطمئن، قال: أرد؟ قال: (لا) (٥)، قال: فتنحى، فعقل راحلته، فلما رأت الماء دنت من الحوض، ⦗٢٢٩⦘ ففجرت الحوض، قال: فقام (صاحب) (٦) الحوض فأخذ سيفًا من عنقه، ثم (ضربه) (٧) به حتى قتله، قال: فخرج يستفتي، فسأل (رجالًا) (٨) من أصحاب محمد لست أسميهم، فكلهم (يؤيسه) (٩) حتى أتى رجلًا منهم فقال: هل تستطيع (أن تصدره كما أوردته؟ قال: لا، قال: فهل تستطيع) (١٠) أن تبتغي (نفقًا) (١١) في الأرض أو سلما في السماء؟ فقال: لا، قال: فقام الرجل، فذهب غير بعيد، فدعاه فرده فقال: هل لك من والدين؟ (فقال) (١٢): نعم، أمي حية، قال: احملها وبرها، فإن (دخل) (١٣) (الآخر) (١٤) النار فأبعد اللَّه من أبعده (١٥).حضرت ابو الاشھب فرماتے ہیں کہ حضرت مزاحم ضبی نے حسن بصری کو بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی اپنے حوض میں سیراب کرنے کے لیے اپنے اونٹوں کا انتظار کررہا تھا جو اس حوض پر اترنے والے تھے کہ اس کے پاس ایک پیاسا سوار شخص اطمناین کے ساتھ آیا اور کہنے لگا : کیا میں پانی کے پاس آجاؤں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں۔ پس وہ شخص دور ہوگیا۔ اس نے اپنی سواری کو باندھا جب اس کی سواری نے پانی دیکھا تو وہ حوض کے قریب ہوگئی اور حوض میں گھس گئی پھر وہ حوض کا مالک اٹھا اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس آدمی کو مارڈالا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص فتوی لینے کے لیے نکلا پس اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند لوگوں سے سوال کیا میں ان کے نام نہیں بتلاؤں گا وہ سب اس کو مایوس کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ ایک صحابی کے پاس گیا، انہوں نے اس آدمی سے کہا : کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے دے یا آسمان تک سیڑھی بنا لے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر و ہ آدمی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین ہیں ؟ اس نے کہا میری والدہ زندہ ہیں۔ ان صحابی نے ان سے کہا کہ جا ان کی خدمت کر اور ان کی فرماں برداری کر۔ اگر دوسرا شخص جہنم میں داخل ہوا تو اللہ دور کرے اس شخص کو جو اسے دور کرے گا۔