مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يكره أن يمر الرجل بين يدي الرجل وهو يصلي باب: جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو نا پسند کیا ہے
حدیث نمبر: 2949
٢٩٤٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبد العزيز التنوخي عن مولى (ليزيد) (١) بن نمران عن (يزيد بن نمران) (٢) قال: رأيت رجلا مقعدا فقال: مررت بين يدي النبي ﷺ وأنا على حمار وهو يصلي فقال: "اللهم اقطع أثره فما مشيت عليها" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن نمران کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک اپاہج شخص نے بیان کیا میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے گذرا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں گدھے پر سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! یہ اپنے پاؤں پر نہ چل سکے۔ بس اس کے بعد سے میں اپنے قدموں پر چلنے کے قابل نہ رہا۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ك] ورد: (لزيد)، وفي حاشية [ب]: (اسمه سعيد).
(٢) في حاشية [ب]: (ويقال يزيد بن غزوان).
(٣) مجهول؛ لحال مولى يزيد، أخرجه أحمد (١٦٦٠٨)، وأبو داود (٧٠٥)، والبخاري في التاريخ ٨/ ٣٦٥، والبيهقي ٢/ ٢٧٥، والمردي ٣١/ ٢٦٠.