حدیث نمبر: 2945
٢٩٤٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: قلت لسعيد بن جبير: (أدع) (١) أحدا يمر بين يدي؟ قال: لا. قلت: فإن أبى؟ قال: فما تصنع؟ قلت: بلغني أن ابن عمر كان لا (يدع) (٢) أحدا يمر بين يديه. قال: إن ذهبت تصنع صنيع ابن عمر دق أنفك (٣).
مولانا محمد اویس سرور

ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی میرے آگے سے گذرے تو کیا میں اسے گذرنے دوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا اگر وہ گذرنے پر اصرار کرنے لگے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ پھر تم کیا کرو گے ؟ میں نے کہا کہ مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول پہنچا ہے کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو توا پنے آگے سے کسی کو نہ گذرنے دے۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ اگر تم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو اپنانا چاہتے ہو تو اپنا ناک توڑ دو !

حواشی
(١) في [هـ]: (أذع).
(٢) في [أ، ب]: (يمر).
(٣) منقطع؛ أيوب لا يروي عن ابن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2945
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2945، ترقيم محمد عوامة 2933)