مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الرجل يضرب الرجل فلا يزال مريضا حتى يموت باب: اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
حدیث نمبر: 29437
٢٩٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني (حسن) (١) بن مسلم أن أمة عضت إصبعا لمولى لبني زيد فطمر (٢) فيها فمات، فاعترفت الجارية بعضتها إياه، فقضى فيها محمر بن عبد العزيز بأن يحلف (بنو) (٣) زيد خمسين يمينًا (ترد) (٤) عليهم الأيمان (لمات) (٥) من عضتها ثم (الأمة) (٦) لهم، وإلا فلا حق لهم، فأبوا أن يحلفوا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ ایک باندی نے بنو زید کے آزاد کردہ غلام کی انگلی کو کاٹا جس سے وہ ورم آلود ہوگئی پھر اس شخص کی وفات ہوگئی اور باندی نے بھی اس کی انگلی کے کاٹنے کا اعتراف کیا اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ فرمایا کہ بنو زید والے پچاس قسمیں اٹھائیں گے اس طور پر کہ ان پر قسم کو لوٹایا جائے گا وہ شخص ان باندی کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے پھر باندی ان کو مل جائے گی ورنہ ان کو کوئی حق نہیں ملے گا پس ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الحسن).
(٢) أي: ورم.
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (بني).
(٤) في [هـ]: (تردد).
(٥) في [أ، ب، ط]: (لما مات).
(٦) في [م]: بياض، وسقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].