مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الرجل يضرب الرجل فلا يزال مريضا حتى يموت باب: اس آدمی کا بیان جس نے آدمی کو ضرب لگائی پس وہ شخص مسلسل مریض رہ کر وفات پا گیا
٢٩٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني ابن شهاب أن عمر بن الخطاب أوطا في زمانه رجلٌ من جهينة (١) [(رجلًا) (٢) من بني غفار (أو رجل) (٣) من بني غفار (رجلًا) (٤) من جهينة، فادعى أهله أنه مات من ذلك] (٥)، فأحلفهم عمر خمسين رجلا منهم من المدعين، فابوا أن يحلفوا، وأبى المدعي عليهم أن يحلفوا، فقضى عمر فيها بشطر الدية (٦).حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی نے قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص کو روند ڈالا یا راوی نے یوں فرمایا : کہ قبیلہ بنو غفار کے ایک شخص نے قبیلہ جہینہ کے آدمی کو روند ڈالا تو اس آدمی کے گھر والوں نے یہ دعویٰ کردیا کہ اس وجہ سے مرا ہے تو حضرت عمر نے مدعیوں کے پچاس آدمیوں کو قسم اٹھانے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا اور جن لوگوں کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا ان لوگوں نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں نصف دیت کا فیصلہ فرمایا۔