مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يمر بين يدي الرجل يرده أم لا؟ باب: اگر نماز کے دوران کسی کے آگے سے کوئی آدمی گذرنے لگے تو اسے روکے گا یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2937
٢٩٣٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن محمد بن إسحاق عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: كان ابن مسعود إذا مر أحد بين يديه وهو يصلى التزمه حتى يرده، ويقول: إنه (ليقطع) (١) نصف صلاة المرء مرور المرء بين يديه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابن مسعود کے آگے سے نماز کے دوران کوئی گذرنے لگتا تو اسے روکنے کی پوری کوشش کرتے اور فرماتے کہ نمازی کے آگے سے کسی کا گذرنا اس آدمی کی نماز کو خراب کردیتا ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (لتقطع).
(٢) منقطع حكما، ابن إسحاق مدلس.