حدیث نمبر: 29341
٢٩٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا صخر بن جويرية عن نافع أن رجلًا مجنونًا في عهد ابن الزبير كان يفيق أحيانًا فلا يُرى به (بأس) (١) (ويعود) (٢) به وجعه، فبينما هو نائم مع ابن عمه إذ دخل البيت (بخنجر) (٣) فطعن ابن عمه فقتله، فقضى عبد اللَّه بن الزبير أن يخلع من ماله ويدفع إلى أهل المقتول (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت صخر بن جویریہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں ایک مجنون شخص تھا کبھی اس کو افاقہ ہوجاتا کہ کوئی تکلیف نہ ہوتی اور کبھی اس کی تکلیف واپس لوٹ آتی اس دوران کہ وہ اپنے چچا زاد کے ساتھ سویا ہوا تھا کہ وہ کمرے میں خنجر لے کر داخل ہوا اور اپنے چچا زاد کے پیٹ میں گھونپ کر اسے قتل کردیا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر نے بطور فیصلہ کے اس سے سارا مال چھین کر مقتول کے گھر والوں کو دلوا دیا۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (بأسًا).
(٢) في [ح، ط، هـ]: (ويعدو).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (بحجر).