٢٩٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن قال: قلت لسعيد بن المسيب: كم في هذه من المرأة (يعني) (١) الخنصر؟ فقال: عشر من الإبل، قال: قلت: في هذين -يعني الخنصر والتي تليها- (فقال) (٢): عشرون، (قال) (٣): قلت: (فهؤلاء) (٤) -يعني (الثلاثة) (٥) - قال: ثلاثون، قال: قلت: ففي هؤلاء -وأومأ إلى الأربع- قال: عشرون، قال: قلت: ⦗١٧٦⦘ حين آلمت جراحها وعظمت مصيبتها كان الأقل لأرشها، قال: أعراقي أنت؟ قال: قلت: عالم متثبت أو جاهل متعلم، قال: يا ابن أخي السنة (٦).حضرت ربیعہ بن ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعیدبن مسیب سے دریافت کیا عورت کی چھنگلی ٹوٹنے میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دس اونٹ، میں نے پوچھا : اور ان دونوں میں یعنی چھنگلی اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی میں ؟ آپ نے فرمایا : بیس اونٹ، میں نے پوچھا ! ان تین انگلیوں میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تیس اونٹ میں نے چاروں انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ! ان میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بیس اونٹ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی ؟ جب اس کا درد بڑھ گیا اور تکلیف زیادہ ہوگئی تو اس کی دیت کم کیوں ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم عراق کے رہنے والے ہو ؟ میں نے عرض کی محقق عالم بہتر ہے یا جاہل طالبعلم ! آپ نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے یہ سنت ہے۔