مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
العمد الذي لا يستطاع فيه القصاص باب: اس قتل عمد کا بیان جس میں قصاص لینا ممکن نہ ہو
٢٩٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني هشام عن أبيه قال: كل عمد ليس فيه قود فعقله في مال المصيب، وإن لم يكن له مال فعلى عاقلة المصيب إن قطع (يمينًا) (١) عمدًا، (و) (٢) كانت يمين القاطع قد قطعت ⦗١٥٤⦘ قبل ذلك فعقلها في مال القاطع، (فإن) (٣) لم يكن له مال فعلى عاقلته، وإن كانت له يد يسرى لم يقد منها، والعقل كذلك، (و) (٤) الأعضاء كلها كذلك.حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ عمد جس میں قصاص ممکن نہ ہو تو اس کی دیت زخم لگانے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر ا س کے پاس مال نہ ہو تو زخم لگانے والے کے خاندان پر لازم ہوگی۔ یعنی اگر اس نے کسی کا داہنا ہاتھ قصداً کاٹ دیا اور کاٹنے والے کا داہنا ہاتھ اس سے پہلے ہی کٹا ہوا تھا تو اس کی دیت کاٹنے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کے خاندان والوں پر لازم ہوگی اگرچہ اس کا بایاں ہاتھ موجود ہو پھر بھی قصاصاً نہیں کاٹا جائے گا اور دیت کا بھی یہی معاملہ ہوگا اور سارے کے سارے اعضاء کا بھی یہی معاملہ ہے۔