مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
الرجل (يقتله) النفر فيدفعون إلى أوليائه باب: اگر ایک آدمی کو زیادہ لوگ مل کر قتل کر دیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 29024
٢٩٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه قال: في رجل قتله ثلاثة نفر (فأراد) (١) وليه أن يعفو عن بعض ويقتل بعضًا ويأخذ من بعض الدية، قال: ليس له ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حسن نے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس کو تین آدمیوں نے قتل کردیا ہو اولیاء نے ارادہ کرلیا ہو بعض کو معاف کرنے اور بعض کو قتل کرنے کا اور دیت لینے کا فرماتے ہیں کہ یہ بات ان کے لیے جائز نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (قال: قلت أرى)، وفي [ب، ط]: (قال: أرى).