مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الديات
العبد يجنى الجناية فيعتقه مولاه باب: اگر کوئی غلام جنایت کرے اور پھر اس کا آقا اسے آزاد کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 28957
٢٨٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن طارق عن الشعبي في عبد قتل رجلًا (حرًا) (١) فبلغ مولاه فأعتقه، قال: عتقه جائز وعلى مولاه الدية.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی کا ایسے غلام کے بارے میں ارشاد مروی ہے کہ جس نے آزاد آدمی کو قتل کردیا پھر اس کے آقا کو خبر ملی تو اس نے آزاد کردیا وہ فرماتے ہیں کہ اس کا آزاد کرنا جائز ہوگا اور اس کے آقا پر دیت لازم ہوگی۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].