حدیث نمبر: 28632
٢٨٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام (عن) (١) عمر بن عامر عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلًا أصاب عين رجل فذهب بعض بصره وبقي بعض، فرفع ذلك إلى علي فأمر بعينه الصحيحة فعصبت، وأمر رجلًا (ببيضة) (٢) فانطلق بها وهو ينظر حتى (انتهى) (٣) بصره، ثم (خط) (٤) (عند) (٥) ذلك (عليها) (٦) قال: ثم نظر في ذلك فوجده سواء، فقال: (أعطوه) (٧) بقدر ما نقص من بصره من مال الآخر (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعیدبن مسیب سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کی آنکھ کو زخمی کردیا، اس کی بینائی کا کچھ حصہ ختم ہوگیا۔ یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا آپ اس کی ایک آنکھ کو باندھنے کا حکم دیا اور ایک کو انڈا لے کر چلنے کا حکم دیا اور آدمی دیکھتا رہا یہاں تک کہ اس کی نظر ختم ہوگئی پھر اس جگہ ایک نشان گاڑ دیا سعید بن مسیب کا ارشاد ہے کہ پھر اس آدمی نے دوسری آنکھ میں سے دیکھا تو انہوں نے اس کو درست پایا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کو دوسرے کے حال سے نظر میں نقصان کے بقدر حصہ دے دو ۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (بن).
(٢) في [أ، ب، ط]: (بيضته).
(٣) في [أ، ب، ط]: (ينهى).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط]: (حط).
(٥) في [أ، ب، ط]: (عته).
(٦) في [هـ]: (علمًا).
(٧) في [أ، ب، جـ، ك، م]: (فأعطوه).