حدیث نمبر: 28625
٢٨٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا الزبير بن جنادة قال: سألت عطاء عن رجل ضرب رجلًا فذهب سمعه، وقد كان سميعًا قال: يترك فإذا استثقل نومًا أجلب حولَه، فإن لم (يستنبه) (١) كانت الدية، وإن استنبه كانت حكومة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زبیربن جنادہ کا ارشاد ہے کہ میں نے عطاء سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے دوسرے کو مارا، پھر اس کی قوت سماعت چلی گئی، حالانکہ قبل ازیں وہ سنتا تھا ؟ تو عطاء نے جواب دیا کہ اسے چھوڑ دیا جائے گا، پھر جب وہ گہری نیند میں ہو تو اس کے اردگرد شور و غل کیا جائے اگر وہ نہ جاگے تو دیت ہوگی اور اگر جاگ جائے تو فیصلہ ہوگا۔

حواشی
(١) في [ط]: (يستنبذ).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28625
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28625، ترقيم محمد عوامة 27448)