حدیث نمبر: 28485
٢٨٤٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن الزهري قال: شبه العمد أن يضرب الرجلُ الرجلَ في (النائر) (١) يكون بينهما ولا يريد قتله فيمرض من ذلك (فيموت) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری نے فرمایا ہے کہ قتل شبہ عمد یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو اپنے درمیان ہونے والے کسی جرم کی پاداش میں مارے لیکن اس کے قتل کا ارادہ نہ رکھتا ہو، پھر وہ آدمی اسی ضرب کی وجہ سے بیمار ہوجائے اور مرجائے۔
حواشی
(١) أي العراك والمضارية، وفي [هـ]: (الثأر).
(٢) في [ط]: (قيموت).