حدیث نمبر: 28442
٢٨٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن علي بن زيد بن جدعان عن القاسم بن ربيعة عن ابن عمر قال: خطب رسول اللَّه ﷺ يوم فتح مكة فقام على درج الكعبة، فقال: "الحمد للَّه (الذي) (١) صدق وعده، ⦗٩⦘ ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده، ألا إن قتيل العمد الخطأ بالسوط (أو) (٢) العصا فيه الدية مغلظة، مائة من الإبل أربعون خلفة في بطونها أولادها" (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن خطبہ دیاپس آپ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے پھر فرمایا ” تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں کہ جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور تن تنہا گروہوں کو شکست دی خبردار تحقیق کوڑے یا چھڑی میں خطائے قصد کی وجہ سے قتل ہونے والے شخص میں دیت مغلظہ ہے یعنی سو اونٹ ہیں جس میں سے چالیس ایسی (حاملہ) اونٹنیاں ہیں کہ ان کی اولاد ان کے پیٹ میں ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [ب]: (و).