حدیث نمبر: 28440
٢٨٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن مبارك (عن معمر) (١) عن عمرو ابن عبد اللَّه عن عكرمة أن عمر بن الخطاب قضى بالدية على أهل القرى اثني عشر ألفًا وقال: إن الزمان يختلف، وأخاف عليكم الحكام من بعدي، فليس على أهل القرى زيادة في (تغليظ عقل) (٢) ولا الشهر الحرام ولا الحرمة، وعقل أهل القرى (فيه) (٣). (لا زيادة فيه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

عکرمہ سے روایت ہے کہ عمر نے دیہاتیوں پر بارہ ہزار دیت کا فیصلہ کیا اور فرمایا کہ زمانہ بدل رہا ہے اور مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں حکام سے خدشہ ہے پس دیہات والوں پر دیت کا مغلظہ کرنے میں کوئی زیادتی نہیں۔ اور نہ اشہر حرام اور نہ حرمت میں اور دیہاتیوں کی دیت میں تغلیظ ہے اس میں زیادتی نہیں ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، م، ك]، وسيأتي الخبر (٩/ ٣٢٥).
(٢) في [هـ]: (تغليظة).
(٣) في [ب]: (فيهم)، وفي [هـ]: (مئة).
(٤) سقط من: [أ، ح، هـ]، والمراد أن دية أهل المدن من الذهب اثنا عشر ألف فهي مغلظة أصلًا، فلا يكون فيها زيادة، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٧٢٧٠)، وكنز العمال (١٥٥/ ٤٥ و ٥٠)، والتمهيد (١٧/ ٣٤٤)، والمحلى (١٠/ ٤٠٠).
(٥) منقطع ضعيف؛ عكرمة لم يدرك عمر، وعمرو بن عبد اللَّه ضعيف.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 28440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28440، ترقيم محمد عوامة 27270)