مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كره للمريض أن يسجد على الوسادة وغيرها باب: جن حضرات کے نزدیک مریض کے لئے تکیہ پر سجدہ کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2836
٢٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن أبي حرب ابن أبي الأسود قال: اشتكى أبو الأسود الفالج فكان لا يسجد إلا ما (رفعنا) (١) له مرفقة يسجد عليها، فسألنا عن ذلك (فأرسلنا) (٢) إلى ابن عمر فقال: إن استطاع أن يسجد على الأرض وإلا (فيومئ) (٣) إيماءً (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرب بن ابی الاسود کہتے ہیں کہ ابو الاسود کو فالج لاحق ہوگیا، وہ ایک تکیہ پر سجدہ کیا کرتے تھے جو ہم ان کی طرف بلند کرتے۔ اس بارے میں ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آدمی زمین پر سجدہ کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو ٹھیک ہے ورنہ صرف اشارہ سے کام چلا لے۔
حواشی
(١) في [ب، هـ]: (رفعناه).
(٢) في [جـ، ك]: (وأرسل).
(٣) في [د، جـ، ك]: (فليومئ).
(٤) مجهول؛ المرسل مجهول.