حدیث نمبر: 28340
٢٨٣٤٠ - حدثنا يعلى قال: حدثنا أبو حيان عن عباية قال: وضأت ابن عمر فقمت عن يمينه أفرغ عليه الماء، فلما فرغ صعد في بصره فقال: من أين أخذت هذا الأدب؛ فقلت: من جدي رافع قال: قال: (هنيئًا لك) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبایہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو وضو کروایا تو میں ان کی دائیں جانب کھڑا ہوگیا اور میں نے ان پر پانی ڈالا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے مجھ پر نظر ڈالی اور فرمایا : تم نے یہ ادب کہاں سے سیکھا ؟ میں نے کہا : اپنے دادا حضرت نافع سے ، انہوں نے فرمایا : تمہیں مبارک ہو۔

حواشی
(١) في [هـ]: (هنالك الرجل)، وفي [أ، ح، ط]: (هنالك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28340
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28340، ترقيم محمد عوامة 27172)