حدیث نمبر: 28311
٢٨٣١١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جامع بن شداد عن الأسود بن هلال قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال (له) (١): خشيت أن تصيبني هذه الآية: ﴿وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ﴾ [الحشر: ٩] الآية، ما أستطيع أن أعطي شيئًا أطيق منعه، قال عبد اللَّه: ذاك البخل (٢)، وبئس الشيء البخل (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود بن ھلال فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہنے لگا : مجھے ڈر ہے کہ میں قرآن مجید کی اس آیت { وَمَنْ یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ } کا مصداق نہیں بن پاؤں گا کیونکہ مجھ میں چیزوں کو خرچ کرنے کی طاقت نہیں بلکہ روکنے کی طاقت ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ بخل ہے اور بخل بدترین چیز ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ز، م]: زيادة (له).
(٢) أي: ليس هذا من الشح، وإنما هو البخل.