حدیث نمبر: 28293
٢٨٢٩٣ - حدثنا حفص عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما رفع اللَّه موسى نجيًا رأى رجلًا متعلقًا بالعرش فقال: يا رب من هذا؟ قال: (عبد من عبادي صالح إن شئت أخبرتك بعمله)، قال: يا رب أخبرني، قال: (كان لا يحسد الناس ما، آتاهم (اللَّه) (١) من فضله).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے ارشاد فرمایا : جب اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ کو سرگوشی کے لیے عزت بخشی، تو آپ نے ایک آدمی کو عرش سے چمٹا ہوا دیکھا۔ آپ نے پوچھا : اے پروردگار ! یہ کون شخص ہے ؟ اللہ رب العزت نے فرمایا : میرے بندوں میں سے نیک بندہ ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کے عمل کے متعلق بتلاؤں ؟ آپ نے عرض کی، اے پروردگار ! مجھے بتلائیے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : یہ شخص لوگوں سے حسد نہیں کرتا ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنے فضل سے عطا کی تھیں۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، م]: زيادة (اللَّه).