مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
ما جاء في النميمة باب: ان روایات کا بیان جو چغل خوری کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 28288
٢٨٢٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن زيد قال: كانت لنا جارية أعجمية، فمرضت فجعلت تقول عند الموت: هذا فلان (تمرغ) (١) في الحمأة، فلما أن ماتت سألنا عن الرجل، قال: فقال: ما كان به بأس إلا أنه كان يمشي بالنميمة.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن یزید نے ارشاد فرمایا : ہمارے پاس ایک عجمی باندی تھی وہ بیمار ہوگئی ۔ ا س نے موت کے وقت یہ کہنا شروع کردیا : یہ فلاں شخص گندی بدبودار مٹی میں پلٹیاں کھا رہا ہے ۔ جب وہ مرگئی تو ہم نے اس آدمی کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی خرابی نہیں تھی سوائے اس بات کے کہ وہ چغل خوری کرتا تھا۔
حواشی
(١) في [جـ، ط]: (تمرع)، وفي [م]: (يمرع)، وفي [ع]: (يمزع)، وفي [ب]: (يمرغ).