٢٨٢٨١ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي حيان عن أبيه قال: التقى عبد اللَّه بن عمرو وابن عمر فانتجيا بينهما ثم انصرف كل واحد منهما إلى أصحابه فانصرف ابن عمر وهو (يبكي) (١) (فقالوا) (٢) له: ما يبكيك؛ قال: أبكاني الذي زعم (هذا) (٣) أنه سمعه (من) (٤) رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل الجنة أحد في قلبه مثقال حبة خردل من كبر" (٥).حضرت سعید بن حیان تیمی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں نے آپس میں سرگوشی کی، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے اصحاب کی طر ف لوٹ گیا۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما لوٹے اس حال میں کہ آپ ر و رہے تھے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا : کس چیز نے آپ کو رلا دیا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے رلایا اس شخص نے جو کہتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جنت میں داخل نہیں ہوگا کوئی ایک جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا۔