حدیث نمبر: 28274
٢٨٢٧٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن (أبي) (١) غفار عن أبي تميمة الهجيمي عن أبي جري الهجيمي قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ قال: قلت: أنت رسول اللَّه؟ قال: "نعم"، قال: قلت: يا رسول اللَّه اعهد إلي، قال: "لا (تسب) (٢) أحدًا"، قال: فما سببت أحدًا: عبدًا ولا حرًا ولا شاة ولا بعيرًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوجُری ّ ھجیمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے پوچھا : کیا آپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی کو گالی مت دو ، آپ فرماتے ہیں : پھر میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ غلام کو نہ کسی آزاد کو ، نہ کسی بکری اور نہ ہی کسی اونٹ کو۔

حواشی
(١) سقط من: [خ]، وفي [أ، ح، هـ]: (ابن).
(٢) في [ث]: (تسبن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28274
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٦٣٥)، وأبو داود (٤٠٨٤)، وابن أبي عاصم (١١٨٣)، والدولابي (١/ ٢٠٠)، والطبراني (٦٣٨٥)، والبيهقي (١٠/ ٢٣٦)، وبنحوه النسائي في الكبرى (٩٦٩٦)، وابن المبارك في الزهد (١٠١٧)، وهناد (٨٤١)، والخطابي في غريب الحديث (١/ ١٥٧)، وابن قانع (١/ ٢٨٦)، والمزي (١٩/ ٢٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28274، ترقيم محمد عوامة 27106)