حدیث نمبر: 28250
٢٨٢٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: حدثني إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة قال: حدثني أبي قال: قال أبو طلحة: كنا جلوسًا بالأفنية، فمر بنا رسول اللَّه ﷺ فقال: "ما لكم ولمجالس الصعدات؟، (اجتنبوا مجالس (الصعدات)) (١) (٢) "، قال: قلنا: يا رسول اللَّه! إنا جلسنا بغير ما بأس نتذاكر ونتحدث، قال: " (فأعطوا) (٣) المجالس حقها"، قال: قلنا وما حقها يا رسول اللَّه؟ قال: "غض البصر ورد السلام وحسن الكلام" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ کشادہ صحن میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہمارے پاس سے گزر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں راستوں میں مجلس لگاتے ہو ؟ تم راستوں کی مجلسوں سے بچو، ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم بغیر گناہ کے بیٹھتے ہیں ۔ صرف آپس میں گفتگو اور بات چیت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر مجلسوں کو ان کا حق دو ، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجلسوں کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نظر کا جھکانا، سلام کا جواب دینا ، اور بہترین کلام کرنا۔

حواشی
(١) في [ب، ط]: (الصفرات).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في [ط، هـ]: (أعطو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28250
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٦١)، وأحمد (١٦٣٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28250، ترقيم محمد عوامة 27082)