حدیث نمبر: 28249
٢٨٢٤٩ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا موسى بن (عبيدة) (١) عن أيوب بن خالد عن مالك بن التيهان قال: اجتمعت جماعة منا عند رسول اللَّه ﷺ فقلنا: يا رسول اللَّه! إنا أهل سافلة وأهل عالية نجلس هذه المجالس فما تأمرنا؟ قال: "اعطوا المجالس حقها (قلنا: وما حقها؟) (٢) قال: غضوا أبصاركم وردوا السلام وأرشدوا ⦗٤٩١⦘ (الأعمى) (٣) وأمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن تیھان فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئی اور ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم لوگ شہر کے زیریں اور بالائی حصہ کے لوگ ہیں۔ ہم ان مجلسوں میں بیٹھتے ہیں پس آپ اس بارے میں ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ مجلسوں کو ان کا حق ادا کرو۔ ہم نے پوچھا : ان کا حق کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی نظروں کو جھکاؤ ، سلام کا جواب دو ، اور اندھے کو راستہ دکھلاؤ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (عبيد اللَّه).
(٢) زيادة من: [جـ، م].
(٣) في [م]: (الأغمار)، وكذلك في: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28249
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، موسى بن عبيدة ضعيف، وأيوب بن خالد لم يسمع من مالك، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٦٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28249، ترقيم محمد عوامة 27081)