حدیث نمبر: 28243
٢٨٢٤٣ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن عمرو بن مرة قال: قلت لسعيد بن المسيب: ما (تقول) (١) إذا أصبحتم وأمسيتم مما تدعون به؟ قال: (تقول) (٢): أعوذ (باللَّه) (٣) الكريم، وبسم اللَّه العظيم، وكلمة اللَّه التامة، من شر السامة (والعامة) (٤)، ومن شر ما خلقت أي (رب) (٥)، وشر ما أنت آخذ بناصيته، ومن شر هذا اليوم ومن شر ما بعده، وشر الدنيا والآخرة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے پوچھا : جب آپ لوگ صبح و شام کرتے تھے۔ تو آپ لوگ کون سی دعا پڑھتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہم لوگ یہ دعا پڑھتے تھے : ہم اللہ کے معزز چہرے کی اور اللہ کے عظیم نام کی اور اللہ کے مکمل کلمہ کی پناہ لیتے ہیں ، موت اور عام چیزوں کے شر سے، اور اے پروردگار جو مخلوق تو نے پیدا کی اس کے شر سے اور جس کی پیشانی تیرے قبضہ میں ہے اس کے شر سے ، اور اس دن کے شر سے جو اس کے بعد ہے اس کے شر سے، اور دنیا اور آخرت کے شر سے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (نقول).
(٢) في [ب]: (يقول).
(٣) في [جـ، م]: (بوجه اللَّه).
(٤) السامة خاصة بالمتكلم، يقال: سم إذا خص، والعامة المصيبة الشاملة للجميع، انظر: النهاية ٢/ ٤٠٤، ولسان العرب ١٢/ ٣٠٣، وتاج العروس ٣٢/ ٤١٥، وفي [س]: (والهامة)، وفي [ح، ط]: (إلغامه)، وفي بعض المراجع: (الحامة)، وسيأتي في كتاب الدعاء (اللامة)، وانظر: الإشراف في منازل الأشراف لابن أبي الدنيا (٤٢٥).
(٥) في [هـ]: (ربي).