حدیث نمبر: 28221
٢٨٢٢١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه قال: كنت قاعدًا عند عمار فأتاه رجل فقال: ألا أعلمك كلمات؟ قال: كأنه يرفعهن إلى النبي ﷺ (١): "إذا اخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي (إليك) (٢)، وفوضت أمري اليك، وألجأت ظهري اليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، (اللهم) (٣) نفسي خلقتها، لك محياها ومماتها، فإن (كَفَتَّها) (٤) فارحمها، وإن أخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان" (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس کوئی شخص آیا ۔ آپ نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھا دوں ؟ راوی کہتے ہیں گویا کہ آپ یہ کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان فرما رہے تھے کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو یوں کہہ : اے اللہ ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کردیا اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا اور میں نے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا ۔ میں ایمان لایا تیری نازل کردہ کتاب پر ، اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر ، میری جان کو تونے ہی پیدا کیا، تیرے لیے ہی اس کا جینا اور اس کا مرنا ہے۔ اگر تو اس کو موت دے تو اس پر رحم کرنا اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے تو اس کی حفاظت کرنا ایمان محفوظ رکھنے کے ساتھ۔

حواشی
(١) في [ث]: زيادة (قال).
(٢) زيادة (إليك) من: [جـ، م].
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، م، هـ].
(٤) في [جـ، ث]: (أمتها)، وفي [هـ]: (توفيتها)، وفي المطالب العالية (٣٣٥٩): (قبضتها).
(٥) في [ث]: زيادة (باب ما يقول: إذا أمسى وأصبح وأخذ مضجعه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28221
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أبو يعلى (١٦٢٥)، وابن السني (٧٣٧)، وابن فضيل في الدعاء (٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28221، ترقيم محمد عوامة 27053)