٢٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعطاء (أتجلس) (٢) المرأة في مثنى على (شقها) (٣) الأيسر؟ قال: نعم، قلت: هو (أحب) (٤) إليك من الأيمن؟ قال: نعم (٥) تجتمع جالسة ما استطاعت، قلت: تجلس جلوس الرجل في مثنى أو تخرج رجلها اليسرى من تحت إليتها؟ قال: لا يضرها أي ذلك جلست إذا (اجتمعت) (٦).حضرت ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ کیا عورت تشہد میں اپنے بائیں پہلوپر بیٹھے گی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کے نزدیک بائیں پہلو پر بیٹھنا دائیں پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا ہاں اور عورت سے جہاں تک ہوسکے اپنے جسم کو سمیٹ کر نماز پڑھے۔ میں نے کہا کہ اگر عورت تشہد میں مرد کی طرح بیٹھے یا اپنے بائیں پاؤں کو کو لہوں کے نیچے سے نکال کر بیٹھے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جب اس نے اپنے جسم کو سمیٹ لیا اب جس طرح مرضی چاہے بیٹھ جائے، کوئی نقصان کی بات نہیں۔