حدیث نمبر: 28120
٢٨١٢٠ - حدثنا يحيى بن سعيد عن (عبيد اللَّه) (١) بن الأخنس عن الوليد بن (عبد اللَّه) (٢) عن يوسف بن ماهك عن عبد اللَّه بن عمرو قال: كنت أكتب كل شيء أسمعه من رسول اللَّه ﷺ وأريد حفظه، فنهتني قريش عن ذلك (قالوا) (٣): تكتب كل شيء تسمعه من رسول اللَّه ﷺ (٤) ورسول اللَّه ﷺ يتكلم في (الرضى) (٥) والغضب، قال: فأمسكت فذكرت ذلك للنبي ﷺ فأشار بيده إلى فيه فقال: "اكتب فوالذي نفسي بيده ما يخرج منه إلا حق" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنی ہوئی ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اور کہنے لگے ، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر فرمودہ بات لکھ لیتے ہو ؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور کبھی غصہ کی حالت میں ! آپ فرماتے ہیں : کہ میں لکھنے سے رک گیا اور میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : لکھ لیا کرو۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اس زبان سے صرف حق بات نکلتی ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، ع]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ط]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [ب، جـ، م]: (وقالوا)، وفي [ط]: (قال لا).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ط]: (الأرض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥١٠)، وأبو داود (٣٦٤٦)، والدارمي ١/ ١٢٥، والحاكم ١/ ١٠٥، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ص ٨٩، والخطيب في تقييد العلم ص ٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28120، ترقيم محمد عوامة 26957)