مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من (كره النظر) في كتب أهل الكتاب باب: جو اہل کتاب کی کتابو ں کو دیکھنے کو مکروہ سمجھے
حدیث نمبر: 28113
٢٨١١٣ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (سعد) (١) بن إبراهيم عن عطاء بن (يسار) (٢) قال: كانت اليهود تجيء إلى المسلمين فيحدثونهم فيستحسنون، أو قال: يستحبون، فذكروا ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "لا تصدقوهم ولا تكذبوهم وقولوا" ﴿آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا (٣)﴾ [المائدة: ٥٩]، إلى آخر الآية (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ یہودی مسلمانوں کے پاس آتے تھے اور ان کو اپنی کتابوں سے باتیں بتلایا کرتے جو مسلمانوں کو اچھی لگتی تھیں۔ پس صحابہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر فرمائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نہ ان کی تصدیق کرو اور نہ ہی ان کو جھٹلاؤ۔ تم یوں کہہ دیا کرو۔ ہم ایمان لائے اللہ پر ، اور اس چیز پر جو اس نے ہماری طرف نازل کی اور اس چیز پر جو اس نے تمہاری طرف نازل کی۔ آیت کے آخر تک۔
حواشی
(١) في [جـ]: (سعيد).
(٢) في [جـ]: (سيار).
(٣) زاد في [أ، جـ، ح، ز، هـ]: ﴿وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ﴾ [المائدة: ٦٨].