مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من (كره النظر) في كتب أهل الكتاب باب: جو اہل کتاب کی کتابو ں کو دیکھنے کو مکروہ سمجھے
٢٨١١٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن مجالد عن الشعبي عن جابر أن عمر بن الخطاب أتى النبي ﷺ بكتاب أصابه من بعض أهل (الكتب) (٢) فقال: يا رسول اللَّه إني أصبت كتابًا حسنًا من بعض (أهل) (٣) الكتاب قال: فغضب وقال: "امتهوكون فيها يا ابن الخطاب (فوالذي) (٤) نفسي بيده لقد جئتكم بها بيضاء نقية، لا تسألوهم عن شيء فيخبروكم بحق فتكذبوا به، أو بباطل فتصدقوا به، والذي نفسي بيده (لو كان ⦗٤٥٢⦘ موسى) (٥) حيًا (اليوم) (٦) (ما وسعه) (٧) إلا أن يتبعني (٨).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اہل کتاب کی کتاب کا کوئی صفحہ لائے اور فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے اہل کتاب کی ایک بہت اچھی کتاب ملی ہے۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا : اے ابن خطاب ! کیا تم اس بارے میں ابھی حیرت زدہ ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ تحقیق میں تمہارے پاس واضح اور روشن دین لے کر آیا ہوں۔ تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق سوال مت کرو کہ وہ تمہیں حق بات بتلائیں گے اور تم اس کو جھٹلا دو گے، یا وہ تمہیں باطل بات بتلائیں گے اور تم اس کی تصدیق کردو گے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر آج حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔