حدیث نمبر: 28102
٢٨١٠٢ - حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن نافع بن جبير قال: قال كعب لعبد اللَّه بن عمرو: هل تطير؟ قال: نعم، قال: فما تقول؟ قال: أقول: اللهم لا طير إلا طيرك، ولا خير إلا خيرك، ولا رب (لنا) (١) غيرك، قال: أنت أفقه العرب (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا بدشگونی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے پوچھا : پھر آپ کیا دعا پڑھتے ہو ؟ آپ نے فرمایا میں یہ دعا کرتا ہوں۔ ترجمہ : اے اللہ ! کوئی بدفالی نہیں سوائے تیری بدفالی کے ۔ اور کوئی خیر نہیں سوائے تیری خیر کے۔ اور تیرے سوا ہمارا کوئی پروردگار نہیں۔ حضرت کعب نے فرمایا : تم عرب کے سب سے بڑے فقیہ ہو۔

حواشی
(١) سقط في: [ث].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، أخرجه ابن وهب في الجامع (٦٦٠)، وابن عبد البر في التمهيد (٢٤/ ٢٠١)، وبنحوه الدولابي في الكنى (٢/ ٥١٦)، وابن سعد في الطبقات (٤/ ٢٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28102، ترقيم محمد عوامة 26939)