حدیث نمبر: 28090
٢٨٠٩٠ - حدثنا كثير بن هشام (قال) (١): حدثنا الفرات بن (سلمان) (٢) عن عبد الكريم عن زياد بن أبي (مريم) (٣) قال: خرج سعد بن أبي وقاص في سفر، قال: فأقبلت الظباء نحوه حتى إذا دنت منه رجعت، فقال له رجل: (أيها الأمير ارجع) (٤) فقال له سعد: أخبرني من أيها (تطيرت؟) (٥) أمن قرونها حين أقبلت أم من (أذنابها) (٦) حين أدبرت؟ ثم قال سعد عند ذلك: إن الطيرة لشعبة من الشرك (٧) (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کسی سفر میں تشریف لے گئے۔ پس ایک ہرن آپ کی طرف آئی یہاں تک کہ جب وہ آپ کے قریب ہوئی تو واپس لوٹ گئی۔ اس پر کسی شخص نے آپ سے کہا : اے امیر آپ واپس لوٹ جائیں۔ حضرت سعد نے اس سے فرمایا : مجھے بتلاؤ تم نے کس چیز سے بدشگونی لی ؟ کیا اس کے آنے سے جب وہ میری طرف آئی ؟ یا اس کے پلٹ جانے سے کہ جب وہ پلٹ کر چلی گئی ؟ پھر اس وقت حضرت سعد نے یہ بھی ارشاد فرمایا : یقینا بدفالی شرک کی شاخ ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ، هـ]: (سليمان).
(٣) في [أ، ط]: (مولم).
(٤) في [جـ]: (ارجع أيها الأمير).
(٥) في [ط]: (تطيرة).
(٦) في [ط]: (أدبارها).
(٧) زاد في [ث]: (باب من لزق بالمجذوم ولم يخش عدوى).