حدیث نمبر: 28084
٢٨٠٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جناب عن أبيه عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا عدوى ولا طيرة ولا هامة"، فقام إليه رجل فقال: يا رسول اللَّه البعير يكون به الجرب (فيجرب) (١) الإبل؛ قال: " (ذلك) (٢) القدر فمن أجرب الأول؟ " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چھوت کی کوئی حقیقت نہیں، بدفالی کی کوئی حقیقت نہیں، اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ ایک بدوی شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کسی ایک اونٹ کو خارش لگی ہو تو وہ تمام اونٹوں کو خارش لگا دیتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بھی تقدیر ہے ورنہ پہلے کو کس نے خارش لگائی ؟

حواشی
(١) في [ث]: (فتجرب)، وزاد بعدها في [هـ]: (به).
(٢) في [ط]: (تلك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28084
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو جناب ضعيف، وأخرجه البخاري (٥٧٧٢)، ومسلم (٢٢٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28084، ترقيم محمد عوامة 26921)