حدیث نمبر: 28083
٢٨٠٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن (عروة) (١) بن عامر قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الطيرة فقال: "أحسنها الفأل ⦗٤٤٣⦘ ولا ترد مسلمًا، فإذا رأى أحدكم من ذلك ما يكره فليقل: اللهم لا يأتي بالحسنات ولا يدفع السيئات إلا أنت، ولا حول ولا قوة إلا بك" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدفالی کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس میں اچھی تو نیک فال ہے اور یہ مسلمان سے کوئی چیز نہیں ہٹا سکتی اور جب تم میں کوئی ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ یہ دعا پڑھ لے۔ ترجمہ : اے اللہ ! تیرے سوا کوئی بھی اچھائی کو پہنچا نہیں سکتا اور نہ کوئی برائی کو دور کرسکتا ہے۔ اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف ترای مدد سے ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، م]: (عقبة).
(٢) في [ث]: زيادة (باب ما قيل في العدوى والطيرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 28083
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، عروة تابعي كما في مراسيل ابن أبي حاتم، انظر: جامع التحصيل (١/ ٢٣٧)، والدعوات للبيهقي (٥٠٠)، والحديث أخرجه أبو داود (٣٩١٩)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٢٩٣)، والبيهقي (٨/ ١٣٩) وفي الشعب (١١٧١)، والخطيب في تالي تلخيص المتشابه (٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 28083، ترقيم محمد عوامة 26920)