مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأدب
من كره ركوب ثلاثة على الدابة باب: جو سواری پر تین لوگوں کے سوار ہونے کو مکروہ سمجھے
حدیث نمبر: 28069
٢٨٠٦٩ - حدثنا عبد الرحيم بن (سليمان) (١) عن إسماعيل عن حسن (عن) (٢) مهاجر (بن) (٣) قنفذ قال: كنا نتحدث معه إذ مر ثلاثة على حمار، فقال للآخر: منهم: أنزل لعنك اللَّه، فقال: فقيل له: تلعن هذا الإنسان؟ قال: فقال: إنا قد نهينا عن هذا أن يركب الثلاثة على الدابة (٤).مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت مہاجر بن قنفذ نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک گدھے پر سوار تین لوگ گزرے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو کہا : اتر جا اللہ تجھ پر لعنت کرے، اس لعنت کرنے والے کو کہا گیا کہ تو انسان کو لعنت کرتا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہمیں اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ ایک جانور پر تین لوگ سوار ہوں۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) سقط من: [هـ]، وفي [ز]: (بن).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) منقطع ضعيف؛ الحسن لم يثبت سماعه من مهاجر بن قنفذ، وإسماعيل بن مسلم المكي ضعيف، أخرجه الطبراني (٢٠/ [٧٨٢])، وابن قانع (٣/ ٦٠).