٢٨٠٣٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان قال: خرج رجل مع معاذ (١) فجعل لا يرى أذى في الطريق إلا نحاه، فلما رأى ذلك الرجل جعل لا يمر بشيء إلا نحاه، فقال له: ما حملك على هذا؟ قال: الذي رأيتك (تصنع) (٢)، قال: (قد) (٣) أصبت أو (قد) (٤) أحسنت، إنه (من) (٥) أماط أذى عن طريق كتبت له حسنة، ومن كتبت له حسنة دخل الجنة (٦).حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت معاذ کے ساتھ نکلا، وہ شخص راستہ میں کوئی بھی تکلیف دہ چیز دیکھتا تو اسے ہٹا دیتا، جب آپ نے اس شخص کو دیکھا کہ یہ جو بھی تکلیف دو چیز دیکھتا ہے تو اس کو راستہ سے ہٹا دیتا ہے ، تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کس بات نے تجھے اس فعل پر ابھارا ؟ اس نے کہا : کہ مں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ نے جواب دیا : تحقیق تو نے ٹھیک کیا یا یوں فرمایا : کہ تو نے اچھا کام کیا۔ اس لیے کہ جو شخص راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔